لکھنؤ،12؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اترپردیش میں سال 2022 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیمی فائنل قرار دئے جانے والے اسمبلی کے 7سیٹوں کے ضمنی انتخاب میں اگرچہ کانگریس کو ایک بھی سیٹ پر کامیابی نہیں ملی پھر بھی کانگریس پارٹی اپنی کاردگی سے مطمئن ہے۔
سات سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں کھاتہ بھی نہ کھلنے کے باوجود پارٹی کا دعوی ہے کہ ان کی کارکردگی سماج وادی پارٹی(ایس پی) سے بہتر رہی ہے۔ضمنی انتخاب میں عوامی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی بہتر کرے گی۔اس الیکشن میں پارٹی کے امیدوار بانگر مئو اور گھاٹم پور اسمبلی سیٹ پر دوسرے نمبر رہے۔
کانگریس کے ریاستی صد اجے کمار للو نے بدھ کو میڈیا نمائندوں سے کہا کہ 'یہ جمہوریت ہے ہم عوامی فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔لیکن ہم اس الیکشن میں اچھا لڑے ہیں۔ہمارے ووٹ فیصد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ہم 7سیٹوں میں سے 2سیٹوں پر دوسرے نمبر پرجبکہ ایک سیٹ پر ہمارا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا۔ہماری کارکردگی سماج وادی پارٹی سے بہتر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس وقت ریاست میں اپوزیشن میں کانگریس ہے۔للو نے کہا کہ پارٹی نے عوام کے خاطر ایوان سے سڑک تک لڑائی لڑی ہے اور یہ ہنوز جاری رہے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے کانگریس پر اعتماد کا اظہار کیا۔یہ ضمنی انتخابات تھے اس میں حکومت نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی۔ہم ہارے ہیں لیکن ہم مایوس نہیں ہیں۔ہم یہاں سے نصیحت لیں گے اور اپنی آپ کو مزید مضبوط کریں گے۔ہم عوام کی لڑائی لڑیں گے اور سال 2022 میں کانگریس کی حکومت بنے گی۔